15 جولائی 2014 - 12:01
فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کیخلاف مقبوضہ کشمیر آتشِ زیر پا+ تصاویر

غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور فلسطینیوں کے ساتھ بطور یکجہتی جموں و کشمیر میں تقریباً ہر مکتب ہائے فکر نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سڑکوں کا رخ کیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور فلسطینیوں کے ساتھ بطور یکجہتی جموں و کشمیر میں تقریباً ہر مکتب ہائے فکر نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سڑکوں کا رخ کیا، سرینگر اور وادی کشمیر کے کئی اضلاع میں ہزاروں طلبہ و طالبات، سرکاری ملازمین، بار ایسوسی ایشن، ڈاکٹرس ایسوسی ایشن اور دیگر کئی گروپوں نے جلوس نکال کر اسرائیلی کارروائیوں کو مسلم کش قرار دیتے ہوئے امریکہ اور اقوام متحدہ کی بے حسی پر احتجاج کیا، اسرائیلی جارحیت کے خلاف پہلا مظاہرہ ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بینر تلے ہوا، عبدالقیوم وانی کی سربراہی میں سینکڑوں ملازمین نے پریس کالونی میں اسرائیل مخالف نعرے بلند کئے، احتجاجی ملازمین نے فلسطینی جھنڈوں کے ساتھ ساتھ اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر اسرائیل مخالف نعرے، معصوم بچوں، جوانوں اور بیٹیوں کا بہیمانہ قتل بند کرو، اسرائیل فلسطین اور غزہ میں در اندازیاں بند کرے، نہتے مسلمانوں کو کس جرم کی پاداش میں شہید کیا جا رہا ہے، کے الفاظ درج تھے، اس موقعہ پر عبدالقیوم وانی نے فلسطینی شہریوں پر بمباری، معصوم بچوں، بوڑھوں اور خواتین کا قتل عام کرنے کو دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے میڈیا کے سامنے ایک یاداشت پیش کی جس میں ریاست میں کام کررہے 5 لاکھ سے زائد ملازمین کی جانب سے فلسطینی قتل عام کے خلاف تشویش ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ ا سرائیل کو فلسطین پر قتل عام جلد از جلد بند کر دینا چاہیے اور معصوموں کے قتل عام پر اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

احتجاجی ملازمین نے اسرائیلی پرچم کو نذر آتش کیا، ملازمین نے جب اقوام متحدہ کے فوجی مبصر آفس واقع سونہ وار کی طرف جانے کی پیش قدمی کی تو پولیس نے احتجاجی مارچ کو ناکام بناتے ہوئے عبدا لقیوم وانی، فاروق ترالی سمیت درجنوں ملازمین کو گرفتار کرلیا، اس کے بعد دوسرا مظاہرہ کالج طلبہ کی جانب سے ہوا جب پریس کالونی میں ایس پی کالج، اسلامیہ کالج اور ایس پی ہائر سکینڈری اسکول سے آئے ہوئے ہزاروں طلبہ نے کلاسوں کا بائیکاٹ کرکے جلوس نکالا، طلباء نے ہاتھوں میں اسرائیل مخالف پلے کارڈس اٹھا رکھے تھے ان پر ”فلسطین میں نسل کشی بند کرو، فلسطین میں خون کی ہولی اور دنیا سو گئی، قتل و غارتگری قبول نہیں، مسلم دشمن ہوش میں آئے، جیسے نعرے درج تھے۔ پریس کالونی میں کچھ دیر تک احتجاج درج کرنے کے بعد جونہی طلباء نے لال چوک کی جانب پیش قدمی کی تو پولیس نے انہیں روک لیا تاہم طلبا کے جم غفیر کو روکنے میں پولیس ناکام ہوئی اور طلباء نے لال چوک میں گھنٹہ گھر پہنچ کر دھرنا دیا اور کچھ طلباء نے گھنٹہ گھر پر چڑھ کر اسرائیل مخالف پلے کارڈ نصب کئے، تیسرا مظاہرہ بعد دوپہر گورنمنٹ وومنز کالج مولانا آزاد روڈ سرینگر کی سینکڑوں طالبات نے کالج سے جلوس کی صورت میں نکل کر کیا، ہاتھوں میں پلے کارڈس لئے احتجاجی طالبات نے کالج سے ریگل چوک، ریذیڈنسی روڑ سے ہوتے ہوئے لال چوک کی طرف پیش قدمی کی اور اس دوران جلوس میں شامل چھوٹی بچیاں اسرائیل مخالف نعرے بازی کرتی رہیں۔ چوتھا احتجاج بار ایسوسی ایشن کے بینر تلے وکلا نے لور کوٹ میں کیا۔ وکلاء نے اسرائیل مخالف نعرے تحریر کئے، پلے کارڈس اٹھا رکھے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲